بدھ 29 جولائی 2026 - 19:06
رہبرِ انقلاب شہید سید علی خامنہ ای (رح) کی منفرد خصوصیات(قسط8)

حوزہ/ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔

ترتیب وترجمہ:ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔

اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔

آٹھویں خصوصیت:فوجی قیادت کی تربیت

بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر ایران کا خطے میں اثر و رسوخ نہ ہوتا تو آج اسے ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یہ وہی نادان لوگ ہیں جو نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، گویا انہوں نے تاریخ کو الٹے رخ سے پڑھا ہو۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ اگر ایران کی علاقائی موجودگی کمزور نہ کی جاتی، اگر حاج قاسم سلیمانی شہید نہ ہوتے، اگر عماد مغنیہ اور سیدحسن نصر اللہ شہادت نہ پاتے، اور اگر شام ہاتھ سے نہ نکلتا، تو کیا پھر بھی جنگ ایران کے اندر نہ پہنچتی؟ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو اگر شہید رہبر آیت اللہ خامنہ‌ای کی قائم کردہ مضبوط علاقائی حکمتِ عملی نہ ہوتی تو جنگ آج سے تقریباً بیس سال پہلے، یعنی ستر اور اسی کی دہائی میں، ایران کے اندر منتقل ہو چکی ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی علاقائی موجودگی اور رہبرِ شہید کی مرتب کردہ علاقائی حکمتِ عملی نے تقریباً پینتیس برس تک ملک کے لیے استحکام اور امن کو یقینی بنایا۔

شدید ترین پابندیوں کے باوجود انہوں نے نہ صرف فوجی حکمتِ عملیوں کی منصوبہ بندی کی بلکہ ایسے افراد کی بھی تربیت کی جو نئی عسکری حکمتِ عملیاں تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ وہ کام تھا جو سفارت کاری کے میدان میں اسی قوت کے ساتھ انجام نہ پا سکا؛ یعنی سفارتی شعبے میں شہید سید حسن نصر اللہ جیسی غیر معمولی ذہانت رکھنے والی شخصیات سامنے نہ آ سکیں۔ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا کہ جنرل قاسم سلیمانی ایک مکمل اور غیر معمولی فوجی جنرل تھے۔ موساد کے سابق سربراہ مئیر داگان یہ خواہش ظاہر کرتے تھے کہ کاش ان کے پاس بھی عماد مغنیہ جیسا کمانڈر ہوتا۔ حتیٰ کہ صہیونی حلقے بھی حسن نصر اللہ کی عسکری فکر اور سکیورٹی حکمتِ عملی کا احترام کرتے تھے۔

ان غیر معمولی شخصیات کی تربیت رہبرِ شہید نے کی، اور انہی کے ذریعے ایران کے دفاع کو مضبوط بنایا۔ ان فوجی اور سکیورٹی مفکرین کی بنیادی حکمتِ عملی یہ تھی کہ ہماری پوری توجہ اسرائیل پر ہونی چاہیے، کیونکہ اصل دشمن اسرائیل ہے۔ ان کے نزدیک داعش بھی بنیادی دشمن نہیں تھی۔ خطے میں رہنے والا ہمارا ہم وطن، ہم مذہب، ہم زبان یا ہم دین شخص اگر وہ اسرائیل کے مفادات کا آلۂ کار یا اس کا نادان مددگار ہی کیوں نہ ہو—اصل دشمن نہیں؛ مزاحمت کی بندوق کا رخ صرف اس ہدف کی طرف ہونا چاہیے جو مقبوضہ سرزمین میں قائم ہے۔ ان حکمت ساز کمانڈروں نے یہ فکر اور طرزِ قیادت رہبرِ شہید کی سیرت سے حاصل کی۔

ایسا ملک جو خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے درمیان واقع ہو اور عالمی طاقتوں کی ایٹمی دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہو، وہ صرف قومی غیرت، غیر معمولی ذہانت اور روشن تدبر کے ذریعے ہی محفوظ رہ سکتا ہے۔ امن بھی صحت کی مانند ہے؛ جب تک موجود ہو اس کی قدر کم محسوس ہوتی ہے، لیکن جب ختم ہو جائے تو اس کی اہمیت پوری طرح واضح ہوتی ہے۔ اسی وقت اندازہ ہوتا ہے کہ شہید رہبرسید علی خامنہ‌ای نے ملک کی حفاظت کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔

اس سرزمین کے عظیم اور تاریخی حکمران، اپنی تمام تر فراست اور بصیرت کے باوجود، فوجی قیادت کی تربیت کے میدان میں امام خمینیؒ اور رہبرِ شہید کے مقام تک نہیں پہنچ سکے۔ یہی خصوصیت ان دونوں قائدین کے نمایاں اور منفرد امتیازات میں شمار ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha